کنداپور:28؍نومبر(ایس اؤ نیوز) جب بیوی اور دو معصوم بچے نیند کے عالم میں تھے تو شوہر نے ان تینوں کو قتل کرکے خود پھانسی لگا کر ہلاک ہونے کا دلدوز واقعہ کنداپور کے قریب ہیبری کے بیلوے دیہات سیٹ ولی میں پیش آیا ہے۔
قتل اورخودکشی کیواردات صبح میں انجام دی گئی تھی مگر شام کو واقعہ منظر عام پر آیا۔ مہلوکین کی شناخت کرشنا السے نامی شخص کا بیٹا سوریا نارائن بھٹ (50)، ان کی بیوی مانسی (40) ، بچے سدھیندرا(14)اور سدھیش (8) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
دراصل سوریا نارائن بھٹ ایک کسان تھے مگرفرصت کے اوقات میں باورچی کا کام بھی کیا کرتے تھے۔ سوریا نارائن کو بدھ کی شام کسی کے ہاں کھانا پکانے کےلئے جانا تھا۔ جب شام کو متعلقہ مقام نہیں پہنچے تو انہوں نے سوریا نارائن کو موبائیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، جب کہ بھٹ کا موبائیل سوئچ آف تھا۔ اس کے بعد انہوں نےمہلوک کے بڑے بھائی کو فون کیا۔ بڑا بھائی شام کو اپنے بھائی سوریانارائن کے گھر پہنچا تو واردات کا پتہ چلا ۔ اس نے دیکھا کہ بھائی پھانسی سے لٹکا ہواہے ، بیوی اور بچے خون میں لت پت پڑےہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سوریا نارائن تھوڑابہت ذہنی طور پربیمار تھا اور تنہا پسند تھا کسی سے زیادہ بات چیت نہیں تھی۔ ہر دن صبح کے اوقات میں قریب کے ایک دکان پہنچ کر آدھے گھنٹے تک اخبار پڑھنے کے بعد گھر لوٹتے تھے مگر گزشتہ ایک ہفتہ سے وہ لوگوں کی نظروں میں نہیں آرہے تھے شبہ جتایا گیا ہے کہ سوریا نارائن غالباً ایک ہفتہ سے اس واردات کو انجام دے کر خود کشی کرنے کی تیاری کررہے تھے۔
ماناجارہاہے کہ بدھ کی صبح کو ہی واردات انجام دی گئی ہے، بیوی اور بچوں کو زہر دینے کے بعد تیزدار ہتھیار سے اُن کے سروں پر بھی وار کیا گیا ہے۔ جس کے بعد سوریا نارائن نے پھانسی سے لٹک کر خود کشی کی ہے۔سوریانارائن خاندانی طورپر خوش حال تھے، معاشی حالت بھی بہتر تھی، بیٹا سدھیندرا ہیبری کی ایس آر ایس اسکول میں 8ویں کلاس میں زیر تعلیم تھاتو سدھیش اسی اسکول میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ مہلوک کا ایک بھائی بنگلورو میں ہے تو ایک اور بھائی یہیں پر زراعت کا کام کرتاہے جب کہ بہن استانی ہے۔
اُڈپی کی ایس پی نیشا جیمس نے واقعے کی جانکاری ملتے ہی جائے واردات پر پہنچ کر معائنہ کیا۔ منی پال لیباریٹری کے ماہر، جاسوسی کتے ، فنگر پرنٹس کے ماہر وغیرہ کے ذریعے بھی معائنہ کرنے کے بعد رات بارہ بجےنعشوں کو منی پال اسپتال روانہ کیا گیا ۔ شنکر نارائن پولس تھانہ میں کیس داخل کیا گیا ہے۔ جانچ جاری ہے۔
.jpeg)